اسرائیل کے حالیہ انتخابات نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد پارلیمان میں سب سے بڑا بلاک بننے کے باوجود حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔ بظاہر یہ انتخابی نتائج نیتن یاہو کے لیے سیاسی دھچکا ہیں، لیکن انہیں اقتدار سے بے دخل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اسرائیلی سیاست کا اصل امتحان اب انتخابی نتائج کے بجائے حکومت سازی کے مرحلے میں شروع ہوگا۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، جبکہ ان کے پورے اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
دوسری جانب گادی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں اور ان کے اتحادی بلاک کی مجموعی نشستیں 48 ہیں۔ اسرائیلی پارلیمان کی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ اس طرح دونوں بڑے سیاسی اتحاد مطلوبہ اکثریت سے محروم ہیں۔
ان انتخابی نتائج کا سب سے اہم پہلو عرب جماعتوں کی 19 نشستیں ہیں۔ یہ تعداد انہیں حکومت سازی کے ممکنہ عمل میں غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آئزنکوٹ عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے میں کامیاب ہوں گے یا سیاسی مفادات اور نظریاتی اختلافات انہیں کسی متبادل اتحاد کی تشکیل سے روک دیں گے؟ دوسری طرف نیتن یاہو بھی سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے اپنے لیے اقتدار میں رہنے کا راستہ تلاش کرسکتے ہیں۔ اسرائیلی سیاست میں اتحادوں کی تشکیل اور ان کے ٹوٹنے کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ابھی ممکن نہیں۔
لیکن اس انتخابی صورتِ حال میں عرب جماعتوں کا کردار محض نشستوں کی تعداد تک محدود نہیں۔ اسرائیل کی سیاست میں عرب شہریوں کی نمائندگی ہمیشہ ایک حساس معاملہ رہی ہے۔ اس مرتبہ ان جماعتوں کی کامیابی نے یہ واضح کیا ہے کہ عرب ووٹر بھی اسرائیلی سیاسی نظام میں اپنا کردار بڑھانا چاہتے ہیں۔ تاہم ان جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا آئزنکوٹ کے لیے آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اسرائیلی سیاست میں عرب جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد بنانے پر شدید نظریاتی اور سیاسی اختلافات موجود ہیں۔
یہاں سے معاملہ صرف اسرائیل کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ تک پہنچ سکتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں نیتن یاہو کی حکومت نے غزہ میں جنگ، لبنان میں فوجی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ براہِ راست کشیدگی کے ذریعے خطے کی سیاست کو مسلسل متاثر کیا ہے۔
7 اکتوبر 2023ء کے حماس حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے نہ صرف غزہ کو تباہی سے دوچار کیا بلکہ اسرائیل کے عرب دنیا اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو بھی ایک مشکل مرحلے میں پہنچا دیا۔ ایسے میں اسرائیلی قیادت میں تبدیلی کی صورت میں خطے کے ممالک
نئی سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
سب سے بڑا سوال فلسطین کا ہے۔ کیا نیتن یاہو کے بعد آنے والی حکومت غزہ کے مستقبل، مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے پر کوئی مختلف راستہ اختیار کرے گی؟ گادی آئزنکوٹ سابق فوجی سربراہ ہیں اور ان کی سیاسی سوچ کو نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں سے مختلف سمجھا جاتا ہے، لیکن اس فرق کو فلسطینیوں کے لیے کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی ضمانت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسرائیل میں فلسطین کے معاملے پر سیاسی اختلافات ضرور ہیں، تاہم نئی حکومت کے لیے ریاستی اور عسکری پالیسیوں سے انحراف آسان نہیں ہوگا۔
ایران کے ساتھ تعلقات بھی نئی اسرائیلی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہوں گے۔ نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران کو اسرائیل کے لیے بنیادی سلامتی کا خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی صرف ایک وزیراعظم کی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ اسرائیلی دفاعی اور سلامتی کے اداروں کے اپنے مفادات بھی اس میں شامل ہیں۔ اس لیے نیتن یاہو کی ممکنہ رخصتی کے باوجود ایران کے بارے میں اسرائیل کی بنیادی حکمت عملی میں فوری تبدیلی کی توقع رکھنا مشکل ہے۔
عرب دنیا کے لیے بھی یہ نتائج اہم ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے امکانات گزشتہ برسوں میں زیر بحث رہے ہیں، لیکن غزہ کی جنگ اور فلسطینی ریاست کے سوال نے اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر اسرائیل میں ایسی حکومت تشکیل پاتی ہے جو فلسطینی مسئلے کے سیاسی حل پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کرے تو سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک کے ساتھ سفارتی روابط کے امکانات دوبارہ زیر بحث آسکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر نئی حکومت بھی موجودہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھتی ہے تو تعلقات میں بڑی پیش رفت مشکل رہے گی۔
اس پورے منظرنامے میں امریکا کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل امریکا کا اہم اتحادی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور سیاسی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران نیتن یاہو کی حمایت بھی سامنے آچکی ہے۔
چنانچہ اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی کی صورت میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی ترجیحات نئی اسرائیلی قیادت کے فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔
تاہم اس انتخاب کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ نیتن یاہو کا اتحاد 53 نشستوں کے ساتھ اب بھی پارلیمان کا سب سے بڑا بلاک ہے۔ وہ سیاسی طور پر کمزور ضرور ہوئے ہیں، لیکن ان کے پاس حکومت سازی کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ایک وسیع تر اتحادی حکومت کی تشکیل یا مخالف جماعتوں کے درمیان اختلافات انہیں دوبارہ اقتدار میں برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں تو نئے انتخابات کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ یوں اسرائیل میں سیاسی بے یقینی کا یہ مرحلہ مزید طول پکڑ سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نیتن یاہو وزیراعظم رہیں گے یا گادی آئزنکوٹ ان کی جگہ لے لیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کی نئی قیادت مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل جنگ اور تصادم کے بجائے کسی سیاسی حل کی طرف لے جانے کی صلاحیت اور خواہش رکھتی ہے؟ کیا فلسطینیوں کو ان کے سیاسی حقوق دینے، غزہ کی تعمیر نو اور خطے میں پائیدار امن کے لیے کوئی قابلِ عمل راستہ اختیار کیا جائے گا؟
نیتن یاہو کی سیاسی گرفت کمزور ہونا ایک اہم انتخابی پیش رفت ضرور ہے، لیکن اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نوید قرار دینا ابھی جلد بازی ہوگی۔ وزیراعظم بدلنے سے ریاستوں کی پالیسیاں ہمیشہ نہیں بدلتیں۔ بعض اوقات چہرے تبدیل ہوجاتے ہیں، مگر فیصلے کرنے والے اداروں کی سوچ وہی رہتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت کسی ایک حکمران کی سیاسی شکست سے زیادہ ایسی قیادت اور پالیسی کی ضرورت ہے جو جنگ کے بجائے مذاکرات، طاقت کے بجائے سیاسی حل اور تصادم کے بجائے بقائے باہمی کو ترجیح دے۔
اسرائیلی انتخابات نے نیتن یاہو کے لیے اقتدار کا راستہ ضرور مشکل بنایا ہے، مگر تاریخ کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ آنے والے دن بتائیں گے کہ یہ محض ایک حکومت سازی کا سیاسی بحران تھا یا مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کسی بڑی تبدیلی کا آغاز۔
بالی وڈ اداکار عمران خان ان دنوں اپنی کسی نئی فلم کے بجائے شہریت اور بھارت میں قیام سے متعلق معاملے پر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ بھارتی حکام نے انہیں 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں...
بھارتی سنیما کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی فلمی صنعت میں سوگ کی فضا پھیل گئی۔ تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط فنی سفر میں نانا پاٹیکر نے ولن، پولیس افسر، فوجی، گینگسٹر، سیاست دان، باپ اور عام آدمی سمیت مختلف...
کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کا مسئلہ اب صرف لوڈشیڈنگ تک محدود نہیں رہا۔ ایک طرف گھنٹوں بجلی بند رہنے کی شکایات ہیں، دوسری طرف بجلی کے بھاری بل گھروں کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس شہر کے شہری بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں،...
دنیا کی سیاسی تاریخ میں سڑک صرف سفر کا راستہ نہیں رہی، کئی مواقع پر یہی سڑک عوامی طاقت، احتجاج اور سیاسی مطالبات کے اظہار کا سب سے بڑا میدان بھی بنی۔ کبھی ہزاروں لوگ کسی قانون کے خلاف سڑکوں پر نکلے، کبھی کسی حکومت سے مطالبات منوانے کے لیے دارالحکومت کا رخ کیا اور...